Welcome!

اردو اسٹوری فورم پہ خوش آمدید فورم پر بہترین اردو سیکس کہانیاں پڑھنے کے لیے ابھی رجسٹر ہوجائیں

Register Now

Announcement

Collapse

اناؤنسمنٹ

وی آئی پی ممبرشپ کی معلومات کے لیے اس ای میل پہ رابطہ کریں
[email protected]
See more
See less

بہو رانی

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • SexStory بہو رانی


    یہ جھنگ کے قریب چھوٹے سے قصبے شورکوٹ کے گاؤں میں مہندی کی تقریب کا منظر تھا۔ شادی کی تیاریاں اچانک روک دی گئیں تھیں۔ وجہ وہی دیہاتوں میں ہونے والے جھگڑے تھے جن کی وجہ صرف انا پرستی، ضد اور جہالت تھی۔ لڑکے کے باپ چوہدری سرور نے اپنے غصے سے آسمان سر پر اٹھایا ہؤا تھا کیونکہ اسکی ہونے والی بہو نے اپنے باپ اور باقی سب لوگوں کے سامنے چوہدری کے اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں کئے فیصلے پر اعتراض اٹھایا تھا۔


    لیکن اس ساری چدکی کے بعد بات بحث و تکرار سے شروع ہو کر گالی گلوچ تک آ گئی تھی۔ چوہدری نے اپنے حاکموں والے سٹائل میں حکم سنا دیا تھا کہ وہ اپنے وارث کے لئے صرف 9 مہینے انتظار کرے گا۔ یہ حکم نامہ چوہدری نے دولہا اور دولہن دونوں کے خاندان اور سب مہمانوں کے سامنے صادر کیا تھا۔ دولہن رضیہ بھی سامنے ہی موجود تھی جس کو گاؤں کے رواج کے مطابق بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن رضیہ کے باپ نے اسے بہت نازوں سے پالا تھا اور اپنی زندگی کے فیصلے لینے کی پوری آزادی دی تھی ۔ جب اس دور میں گاؤں کے لڑکے تعلیم کو وقت کا زیاں سمجھتے تھے رضیہ کے باپ نے اسے اچھی تعلیم دلوائی یہاں تک کے وہ گرایجویشن کے لئے سرگودھا ہاسٹل میں بھی رہتی رہی تھی۔ اس وقت وہ اپنے گاؤں کی سب سے تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔


    رضیہ نے جب دیکھا کے کیسے اسکا ہونے والا سسر اسکے بارے میں کسی استعمال ہونے والی چیز کی طرح حکم جاری کر رہا ہے تو بے عزتی اور غصے کے احساس سے اسکا گندمی رنگ لال سرخ ہو گیا۔ وہ ایک دم اپنی جگہہ سے اٹھی اور اپنے سسر کی آنکھوں میں جھانکتے ہؤۓ بولی:" شادی کے بعد 5 سال تک میرا ماں بننے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں نوکری کروں گی اور میرا شوہر سجاد بھی۔ ہم اولاد سے پہلے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔ اولاد کے بارے میں ہر فیصلہ میں اور میرا شوہر لیں گے" ۔ یہ سب کہتے وقت رضیہ کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکہ ہو رہا تھا اور اسکی سانسیں تیز تیز چل رہی تھی جس سے اس کے بڑے بڑے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ اپنے دل کی بات سب کے سامنے دھڑلے سے بول کر رضیہ نے جب دیکھا تو سارے مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔


    پورے مجمعے کی نظریں اب چوہدری سرور پر تھی کہ اسکا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ "او چھوکری!" تیری ہمت کیسے ہؤئی میرے بیٹے کا نام اپنی زبان سے لینے کی؟ تو ہوتی کون ہے یہ فیصلہ کرنے والی کہ میرے گھر میں کیا ہو گا؟


    رضیہ نے بھی اونچی آواز میں جواب دیا، "پوچھو اپنے بیٹے سے، جب میرے پیچھے پیچھے پورے گاؤں میں دم ہلاتا پھرتا تھا، اسی نے کہا تھا کہ مجھے میرے نام سے بلایا کرو اور شادی کے بعد جو میں چاہوں گی وہی ہو گا"


    رضیہ کے باپ کو انداذہ ہو گیا تھا کہ بات بگڑتی جا رہی ہے اور اگر رضیہ اور چوہدری کو نہ سمجھایا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا اور پورے پنڈ میں وہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں بچے گا۔ رضیہ کے باپ نے چوہدری کے آگے ہاتھ جوڑے اور بولا،"چوہدری صاحب میری بیٹی ملازمت کرنا چاہتی ہے اور اگر ماں بن گئی تو یہ کیسے ملازمت کر سکے گی۔ لیکن اہک بار جب یہ آپکی بہو بن گئی تو آپکا حکم ماننا اس پر فرض ہو گا پھر آپ اپنی چلا لینا". چوہدری کو اسکی بات میں چھپے پیغام کی سمجھ آ گئی تھی۔


    لیکن حاکموں کی ہٹ دھرمی تو مشہور ہے اور چوہدری کے سامنے آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی۔ چوہدری بولا، "بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔ کہیں تمہاری بیٹی میں کوئی نقص تو نہیں جسے تم چھپانے کی کوشش کر رہے ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ماں بننے کے قابل ہی نہ ہو؟ یا یہ عورت کی جگہ کھسرا ہو؟


    چوہدری کے منہ سے یہ نکلنا تھا ک رضیہ کے برادری والے ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی آنکھوں سے غصہ صاف جھلکنے لگا۔ اور اس کے بعد وہ گالی گلوچ شروع ہوئی کہ الامان۔۔ یہ سب کنجرخانہ 2 گھنٹے جاری رہا جس کے بعد چوہدری غصے میں بھرا اپنے لوگوں کو لے کر اپنی حویلی چلا گیا اور رضیہ کے گھر والے اپنے گھر چلے گئے۔


    رات کے 10 بجے تھے گاؤں کی زیادہ تر آبادی سو چکی تھی اور حویلی میں چوہدری اپنے بیٹے سجاد کے اوپر غصہ اتار رہا تھا جس کی عاشقی کہ قصے آج پورے پنڈ کی زبان پر تھے۔ اس زیادہ غصہ اس بات کا تھا کہ رضیہ کو اتنی ہمت اسی وجہ سے ہوئی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ سجاد اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ادھر رضیہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھی چوہدری کے اس سوال پر آگ بگولہ ہو رہی تھی جو چوہدری نے اسکے عورت ہونے پر اٹھائے تھے۔میں اس آدمی کو سبق سکھا کر رہوں گی رضیہ نے اپنے آپ سے کہا۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون، پورے پنڈ میں کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ چوہدری کے سامنے کوئی سر بھی اٹھا سکے۔جو بھی کرنس ہے خود ہی کرنا پڑے گا۔ اور بدلہ تو ایسا ہو کہ چوہدری کو اسی عورت کے آگے سر جھکانا پڑے جس کے عورت ہونے پر اس شک ہؤا تھا۔

    رات کے 12 بجے رضیہ نے چپکے سے گھر کا دروازہ کھولا اور اندھیرے میں چوہدری کی حویلی کی طرف چل پڑی۔ حویلی کے گیٹ پر چوکیداروں نے اسے روکا لیکن شناخت کے بعد پتہ چلنے پر کہ وہ حویلی کی ہونے والی بہو ہے اسے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ حویلی سے اندر آتے ہی بھت بڑا صحن تھا جس کی ایک طرف شیڈ میں 50 کے قریب بھینسیں بندھی تھیں اس سے تھوڑا آگے ایک بہت بڑا باغ تھا جس میں آم کے ایک درخت کے نیچے چوہدری ایک کرسی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا اور اسکے کمی اور چیلے اینٹوں کے فرش پر نیچے بیٹھے تھے اور ان میں سے ایک چوہدری کی ٹانگیں دبا رہا تھا۔ انہوں نے رضیہ کو آتے دیکھا تو ایک دم سب کو چپ لگ گئی۔ رضیہ خاموشی سے چوہدری کی کرسی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور کھنکھاری۔ کافی دور سے چل کر آنے اور اس ساری صورت حال کی ٹینشن کی وجہ سے رضیہ کا سانس چڑھا ہؤا تھا۔ کھنکھار کی آواز سن کر چوہدری نے اپنی سرخ سرخ آنکھیں کھولیں اور رضیہ کو اس وقت اور اس جگہ دیکھ کر حیران ہو گیا اور آنکھیں پھاڑ کر اسکی طرف دیکھنے لگا۔ مہندی کا پیلا جوڑا اس کے پسینے میں بھیگ کر اس کے جسم سے چپکا ہؤا تھا اور کرسی پر بیٹھے چوہدری کو نیچے سے اس کے تنے ہوئے پستان مغرور پہاڑوں کی طرح لگ رہے تھے۔ اوپر سے بلب کی پیلے رنگ کی روشنی رضیہ کو مزید قیامت بنا رہی تھی۔ اتنے میں چوہدری کو احساس ہوا کہ یہ کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ اسکے بیٹے کی پسند اور شاید اسکی ہونے والی بہو ہے۔ چوہدری نے دیکھا کہ اس کے چیلے بھی آنکھیں پھاڑے رضیہ کو ہی دیکھ رہے تھے۔ وہ غرایا،"او مادرچودو دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے " اسکی غراہٹ سنتے ہی سب اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑے۔

    "اب تم یہں کیا لینے آئی ہو" چوہدری نے پوچھا، اسے اندازہ تھا کہ شاید یہ لڑکی اپنی زبان درازی پر معافی مانگنے آئی ہے۔"

    میں یہ کہنے آئی ہوں کہ آپ جیسی بڑی بڑی مونچھیں رکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپکے خاندان والے بڑے مرد ہیں، آپکو چاہیئے تھا کہ آپ میرے عورت ہونے پر سوال اٹھانے سے پہلے 10 دفعہ سوچتے" رضیہ طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوۓ بولی۔

    رضیہ کا طنزیہ انداز اور اسکے الفاظ ایسے تھے کہ چوہدری کو لگا کہ اسکے کانوں میں سے دھواں نکلنے لگا ہے۔ بلب کی پیلی روشنی آم کے درخت کے پتوں سے چھن چھن کر رضیہ پر پڑ رہی تھی جس سے وہ کوئی غیرانسانی مخلوق لگ رہی تھی۔ اس پر اسکی آواز اور اسکے الفاظ سے چوہدری کی مردانگی کو شدید ٹھیس لگی تھی۔ چوہدری کے دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ اس لڑکی کو سبق سکھانا پڑے گا کہ مرد ہوتا کیا ہے۔

    وہ غصے میں بھرا کرسی سے اٹھا اور شیر کی طرح رضیہ کی طرف بڑھا۔اسکے ہاتھ ایسے پھیلے ہوئے تھے جیسے اس کے منہ پر تھپڑ مار کر اس کا منہ توڑ دے گا۔۔۔(جاری ہے )



  • #2
    Super story ha

    Comment


    • #3
      Master mind bro the jiski talash mil gya wo shahkar

      Comment


      • #4
        ماسٹر بھائی بہت ہی کمال کا ٹاپک سیلیکٹ کیا ہے آپ نے۔
        یار بہت ہی خوبصورتی سے لکھا آپ نے۔
        اور اب مزا آئے گا کہ چوہدری اپنی ہونے والی بہو کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اور رضیہ کتنا برداشت کرتی ہے۔
        بھائی جان مزید کا انتظار ہے۔
        بہت شکریہ ویر جی۔

        Comment


        • #5
          Start to boht acha hai

          Comment


          • #6
            Shandar aghaz agy chal kr boht badi raand bany gi bahu rani ke tevar to yehi batate hain

            Comment


            • #7
              اسٹارٹ اچھا ہے امید ہے فل سیکس سے آغاذ ہو گا

              Comment


              • #8

                چوہدری کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر پہلی مرتبہ رضیہ کو اس کے دراز قد، موٹے اور طاقتور بازو، چوڑے کندھوں اور اس کے گٹھے ہوئے جسم سے خوف محسوس ہؤا۔ اسے لگا جیسے وہ کسی پہاڑ کے سائے میں کھڑی اسکی چوٹی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کا جسم ایک دفعہ تو خوف سے کانپ سا گیا لیکن دوسرے لمحے اسے پھر اپنی بےعزتی یاد آئی اور اس نے سوچا اب تو جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں ایک مرتبہ پھر چوہدری کی آنکھوں میں گاڑ دیں اور ہموار آواز میں پورے اعتماد کے ساتھ بولی، "اب آپ مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی نامردی پر پردہ ڈالیں گے؟' رضیہ کے چہرے پر یہ کہتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ تھی جسے دیکھتے ہی چوہدری شیر کی طرح غرایا اور اس نے اپنے چوڑے چکلے پنجے میں رضیہ کی گردن دبوچ لی اور اسے دھکیلتا ہؤا پیچھے لے گیا یہاں تک کے ایک جھٹکے سے رضیہ کی پیٹھ آم کے پیڑ سے ٹکرائی۔ ادھر چوہدری نے جب رضیہ کی گردن پکڑی تو اسکی جلد کی نرمی اور گرمی نے اس کے اندر سوئی ہوس کو جگا دیا۔ یہ احساس آتے ہی چوہدری کی گرفت کمزور ہو گئی، اب اس نے صرف گلے پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا ہؤا تھا جس سے رضیہ کی کمر ابھی بھی درخت سے لگی تھی۔ چوہدری کی درندوں جیسی طاقت نے رضیہ کے اندر کا موسم بھی تبدیل کر دیا تھا۔ اسے اپنے گلے پر چوہدری کے کھردرے اور سخت ہاتھ سے اسکی مردانہ طاقت کا اچھے سے انداذہ ہو رہا تھا۔


                درخت کے نیچے ملگجا سا اندھیرا تھا اور آم کے پتوں سے چھن چھن کر آتی روشنی بڑا پراسرار ماحول پیدا کر رہی تھی۔ جب دونوں کی آنکھیں اس اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو دونوں کے ہوش اڑ چکے تھے۔ ادھر رضیہ چوہدری کی آنکھوں میں ہوس کے سائے دیکھ کر سمجھ چکی تھی کہ وہ جہاں چوہدری کو لانا چاہ رہی تھی آخر وہ وہاں تک آ ہی گیا ہے۔ چوہدری کو بھی انداذہ ہو گیا تھا کہ وہ کتنی نازک صورت حال میں ہے۔ اسکی گرفت رضیہ کے گلے سے ختم ہو چکی تھی اب وہ اپنی انگلیوں سے بے خیالی میں رضیہ کی ٹھوڑی کو سہلا رہا تھا۔

                "بول دکھاؤں تجھے اپنی مردانگی؟ اور تو بتا تو کیسے ثابت کرے گی کہ تو پوری عورت ہے" چوہدری دھیمی آواز میں بولا، اسکی آواز میں غصے کے علاوہ سب کچھ تھا۔


                رضیہ نے چوہدری کی کلائی پکڑی اور اپنے گلے سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن چوہدری کا ہاتھ ہٹانا اسکے بس کی بات نہیں تھی۔ رضیہ کے منہ سے جواب نکلا " میرے عورت ہونے کے ثبوت کے چکر میں تم اپنی مردانگی کی پول نہ کھلوا لینا" یہ کہتے ہی رضیہ کو انداذہ ہو گیا کہ اس سے کتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ اتنا سننا تھا کہ چوہدری غصے میں اندھا ہو گیا ۔ اسکے ہاتھ نے رضیہ کے گریبان کی طرف حرکت کی اور ایک ہی جھٹکے میں چوہدری نے اسکا گریبان اسکے پیٹ تک پھاڑ دیا۔ گریبان پھٹتے ہی کالے برا میں قید اس کے خربوزے کے سائز کے ممے ایک جھٹکے سے آزاد ہوۓ۔ چوہدری نے اگلا حملہ اسکے برا پر کیا اور وہ بھی ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ کر چوہدری کے ہاتھ میں آ گیا۔ اس جھٹکے سے اسکے مموں نے اسکے سینے پر ایسے باؤنس لیا جیسے وہ پانی والے غبارے ہوں۔ چوہدری نے برا نیچے پھینک کر اوپر دیکھا تو اس کی نظر رضیہ کے خربوزوں پر پڑی۔ انکا رنگ اسکے جسم کے گندمی رنگ سے زیادہ صاف تھا اور ان پر کسی بادشاہ کے تاج کے جیسے ہلکے براؤن رنگ کے گھیروں پر مٹر کے دانے کے سائز کے نپل تھے، رضیہ کے غصے کی وجہ سے اسکے کسے ہوئے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ رضیہ نے چوہدری کی نظروں کو محسوس کرتے ہی فورن اپنے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ کر انہیں چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ چوہدری نے ہاتھ اسکی طرف بڑھاۓ تاکہ اسکے ہاتھوں کو ہٹا کر ان رس سے بھری مسمیوں کا نظارہ کر سکے لیکن اسی وقت رضیہ کا ایک ہاتھ تھپڑ کی صورت میں چوہدری کی طرف بڑھا۔ چوہدری سرور اس عمر میں بھی کسی چیتے کی طرح پھرتیلا تھا اس نے آدھے راستے میں ہی رضیہ کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیا۔ رضیہ کا دوسرا ہاتھ کسی سپرنگ کی طرح اسکے مموں سے ہٹا اور چوہدری کی دھوتی کی طرف آیا اور اس دفعہ اس کے ہاتھ میں چوہدری کا نیم کھڑا لوڑا آ ہی گیا۔ جب سے چوہدری نے رضیہ کو دبوچا تھا اس کا لوڑا اس وقت سے لگاتار کھڑا تھا جیسے اسے کچھ ہونے کا انتظار ہو۔ لن کو گرفت میں لے کر رضیہ کو چوہدری کے مرد ہونے کا ثبوت مل چکا تھا۔ لمحوں میں خون نے چوہدری کے لوڑے کی طرف سفر کرکے اسے بھر کر پورا کھڑا کر دیا۔ بہت عرصے بعد کسی جوان خوبصورت لڑکی کے ہاتھ نے اس طرح چوہدری کے لن کو جکڑا تھا اور اسکے نرم ہاتھوں کی مضبوط گرفت نے چوہدری کو اس مزے کی یاد دلا دی جسے وہ بھول بیٹھا تھا۔(جاری ہے )..


                Comment


                • #9
                  Ache story hy

                  Comment


                  • #10
                    کئا بات ہے ماسٹر بھائی۔
                    آپ تو بڑے ماسٹر نکلے جناب۔
                    اب بے چاری کے ساتھ وہ گا جو اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
                    اور چوہدری اب اتنا نزدیک آ کے اس کو پھاڑے بغیر کبھی نہیں جانے دے گا۔ کیونکہ آخر چوہدری کو اتنے لبے عرصے بعد کچی مسمیوں سے رس نکالنے کا موقع ملا ہے تو وہ ان کے ساتھ مکمل انصاف کرے گا۔
                    اور اس کی پھدی کو اپنے بڑے لن کے مطابق بحال کرے گا تاکہ اگلی دفعہ زیادہ زور نہ لگانا پڑے۔ اور اک واری چودن توں بعد اس نوں جلدی جلدی اپنے گھر بہوں بنا کے لیاوے گا۔ مگر صرف اے لوکاں نو ویکھان واسطے اصل وچ تے اس نوں اپنی رکھیل بنان واسطے لیانا اے۔
                    ہسدا وسدا رہو ویرے مزید دا انتظار۔

                    Comment

                    Users currently viewing this topic; (1 members and 1 guests)
                    Users currently viewing this topic
                    1
                    Members

                    Humza iqbal
                    Working...
                    X