Welcome!

اردو اسٹوری فورم پہ خوش آمدید فورم پر بہترین اردو سیکس کہانیاں پڑھنے کے لیے ابھی رجسٹر ہوجائیں

Register Now

Announcement

Collapse

اناؤنسمنٹ

وی آئی پی ممبرشپ کی معلومات کے لیے اس ای میل پہ رابطہ کریں
[email protected]
See more
See less

زینت ایک دیہاتی لڑکی

Collapse
This is a sticky topic.
X
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • #31
    Buhot achhi story he agar is main zenat ke shohar ke samny us ki chudai ho to maza ajay

    Comment


    • #32
      zabardast kamal

      Comment


      • #33
        کچھ دیر بعد میں نے لن کو
        باہر نکالا نکالا اور اپنے ساتھ زینت کو چپکاتے ہوئے کمبل اوڑھ لیا گھڑی

        پر 3:10 بج رہے تھے صبح آنکھ کھلے تو زینت باتھ روم جا چکی تھی

        9:20
        بج رہے تھے اور سائلنٹ پر لگا موبائل ویبریشن کرنے لگا نعمت

        کی کال آ رہی تھی کچھ مزید پیسوں کی ضرورت تھی اسے میں نے کچھ

        دیر میں ہسپتال آنے کا کہہ کر کال کاٹ دی تھی نعمت کی کال کے بعد میں

        نے کمبل چہرے پر ڈال لیا کمبل سے وہی خاص قسم کی میٹھی خوشبو آ

        رہی تھی جو زینت کے جسم سے آتی تھی اور دل کرتا ہے کہ اس کے

        جسم سے لگ کے پڑا رہوں اور کوئی کام نہ ہو میں نے اپنے ننگے جسم

        پر چادر لپیٹی اور دوسرے کمرے کے واش روم چلا گیا میں واپس آ کر

        دیکھا تو زینت کے کپڑے ابھی تک بیڈ پر پڑے تھے اور وه باتھ روم سے

        باہر نہیں آئی تھی کل شام کو زینت کے نہانے اور نیا سوٹ پہننے کے بعد

        گو اس کا رنگ کافی نکھر چکا تھا اور وه دن والے ساده کھلے کپڑوں اور

        پتراندے میں جکڑے بالوں والی زینت نہیں رہی تھی لیکن اب بھی کچھ

        دیہی رنگ اس میں جھلک رہے تھے رات کے سیکس کا مزه میرے حواس

        پر چھایا ہوا تھا اور خاص کر زینت کے ڈسچارج ہونے کے وقت کے ہپس

        اٹھا کر خود ہی تین جھٹکے کے ساتھ اے اے اے کی۔مدھم آوازیں کے سین

        ذہن میں آتے ہی میرا لن سانپ کی طرح میری رانوں میں بل کھانے لگا تھا

        میں نے باتھ روم کے دروازے کو دیکھا تو اس سے روشنی کی ایک

        باریک لکیر کھنچی ہوئی تھی ۔۔۔۔ مطلب زینت نے دروازه لاک نہیں کیا تھا

        میں اٹھ کر باتھ روم کی طرف چلنے لگا تو میرا لن میرے آگے جھول گیا

        دیہات کی ساده لڑکی کا ٹیسٹ اسے بھا چکا تھا اور باتھ روم کے دروازے

        کے پاس پہنچا تو بالصفا کریم کی خوشبو نے میرا استقبال کیا ویٹ کریم کی

        ڈبیہ باتھ روم میں موجود ہوتی تھی اور میری بیگم گلاب کے پھول والی

        ویٹ ہی استعمال کرتی تھی رات کو جب میں زینت کے پاؤں پکڑ کر اس

        کی ٹانگیں اٹھائے اس کی پھدی میں لن کو آرام سے اندر باہر کر رہا تھا تو

        میں نے دیکھا زینت کی پھدی پر ہلکے ہلکے بال موجود تھے میں نے

        دروازه کھول دیا زینت نے پانی کی بالٹی بھری ہوئی تھی اور مگے سے

        اپنے سر پر پانی ڈالنے والی تھی کہ مجھے اچانک دیکھ کر گھبرا گئی اور

        شرم سے اس نے اپنا سر گھٹنوں پر ٹکا کر آنکھوں کو بازو سے چھپا لیا

        تھا میں نے اسے اٹھا لیا اور گلے لگا کر اسکو کسنگ کرنے لگا تھا زینت

        تھوڑی کھسکنے لگی تھی لیکن میں نے اسے ہپس سے پکڑ رکھا تھا اس

        کے ہپس میں قدرے کپکپاہٹ تھی اور اس نے سر جھکایا ہوا تھا زینت کے

        لمبے بال ہپس کے اوپر کے حصے تک کھلے ہوئے تھے وه مدھم آواز

        میں بولی نہیں کرو صاحب ۔۔۔۔ میں نے اس کا چہره اوپر اٹھا لیا تھا اور

        اسکی آنکھوں پر کسنگ کرتے ہوئے بولا کہ زینت مجھے صاحب نہیں

        بولا کرو مجھے یار بولا کرو اب آپ کی اور میری دوستی ہو گئی ہے اب

        وه ہلکی سی مسکرائی تھی میں نے اس کے ہپس پر تھپکی دی اور بوبز پر

        جھک گیا میں ان کو دونوں ہاتھوں سے مسلتے ہوئے باری بار ان کے نپل

        پی رہا تھا چھپ چھپ کی آواز کے ساتھ میں منہ بھر کے بوبز پی رہا تھا

        اور اس نے اب میرے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی شروع کر دی تھی

        اور کبھی کبھی میرے چہرے پر پیار سے ہاتھ لگائی اس نے اپنا سینہ کمان

        کی طرح آگے کو کھینچا ہوا تھا اور سسکیوں کے ساتھ لمبے سانس لے

        رہی تھی میں نے زینت کو باہوں میں اٹھا لیا تھا اس نے اپنا ایک بازو

        میری گردن کے گرد لپیٹ لیا تھا بیڈ کی طرف آتے ہوئے اپنی ہاتھوں میں

        اٹھائی زینت کے ہپس کو میں نے پکڑا ہوا تھا اور مسلسل منہ بھر بھر کے

        بوبز چوس رہا تھا اب تک میرا لن ٹائٹ ہو کر اوپر کو اٹھ گیا تھا میں نے

        کمبل اور بیڈ پر پڑے زینت کے کپڑوں اور اپنی پینٹ شرٹ کو نیچے

        کارپٹ پر پھینک دیا تھا میں نے زینت کو بیڈ پرلٹا دیا (جاری ہے )

        Comment


        • #34
          دیہات میں سیکس واہ

          Comment


          • #35
            بھائی جان بہت ہی کما اورسیکس سین تو آپ نے بہت ہی اچھے لکھے
            اب تو لن کو سچ میں دیہاتی پھدی کا چسکا لگ گیا اور یہ سلسسلہ اب مجھے دور تک چلتا ہوا دکھائی دے رہاہے۔
            اس طرح لکھتے رہیں اور زینت کے ساتھ ساتھ مزید کریکٹر بھی جان ڈالتے جائیں لن اور سٹوری دونوں میں۔
            شکریہ

            Comment


            • #36
              Kia bat hy apki story parh k maza ajta

              Comment


              • #37

                جیسے ہی اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھا ا زینت نے اپنے پاؤں اٹھا کر میرے کاندھوں پر

                رکھنے کی کوشش کی لیکن اس کے پاؤں میرے کاندھوں سے نیچے سینے

                کے اوپری حصے تک پہنچے تھے میں نے زینت کی پھدی پر نگا ڈالی

                رات والے ہلکے بالوں پر جھاڑو پھر چکا تھا اور پھدی صاف ہو چکی تھی

                میں ایک بار پھر زینت کی آنکھوں سے کسنگ کرتا گالوں لپس گردن بوبز

                اور پیٹ سے ہوتا ہوا اس کی رانوں پر کسنگ کرتا ہوا اس کی ٹانگوں میں بیٹھ گیا میں نے لن

                کو پکڑ کر ڈنڈے کی طرح زینت کی پھدی پر مارا تو اس نے لمبی سی

                وششششششششش کر دی میں نے لن کی ٹوپی پر تھوک لگایا اور پھدی کے

                ہونٹوں میں برش کی طرح چلاتے اوپر کو پھسلا لیتا تھا اب زینت تڑپ

                رہی تھی اور کمر کو بل دے رہی تھی وه اب آنکھیں بند کرنے کے بجائے

                مجھے معصومیت سے دیکھ رہی تھی میں نے چند سیکنڈ اس کی نگاہوں

                سے نگاہیں ملائے رکھی زینت نے مسکراتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ

                رکھ دئیے تھے میں نے ایک ہاتھ سے اس کے ہپس کو پکڑا اور دوسرے

                ہاتھ سے بوبز کو پکڑ کر لن کو زینت کی وادی میں جھٹکے سے اتار دیا

                اس نے وشش کے ساتھ کمر کو تھوڑا اٹھایا اور میں نے جھٹکے مارنا

                شروع کر دئیے میں جھٹکے مارتا آہستہ آہستہ زینت پر لیٹتا چلا گیا زینت

                نے اپنی ٹانگیں سکیڑ لی تھی اب میرا اراده تھا کہ پورے لن کو اس کی

                گرم پھدی کی سیر کرواؤں رات کو زینت سات انچ تک اندر لے

                چکی تھی اب صرف تقریباً اڑھائی انچ کی مشکل باقی تھی میں نے

                جھٹکے روک کر زینت کے ہونٹوں کو چوسنے لگا اور لن پر دباؤ بڑھا دیا

                لن اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا اور زینت کا چہره درد کی شدت سے

                سرخ ہو چکا تھا اور اس نے مجھے سائیڈوں سے پکڑ کر پیچھے دھکیلنے

                کی ناکام کوشش جاری رکھی لیکن میرا جسم زینت کی باڈی سے فٹ ہو

                چکا تھا مطلب لن نے اپنی منزل پا لی تھی زینت تڑپ رہی تھی اور اب

                میرے نیچے سے نکلنے کی ناکام کوشش شروع کر دی وه آنکھیں بند کئے

                ہونٹ کاٹ رہی تھی اس کے چہرے پر کئی رنگ تبدیل ہو رہی تھی میں

                زینت کو بازوں کے نیچے سے اس کے کندھوں کو پکڑے زینت کی اس

                کوشش کو اور چہرے کے بدلتے رنگوں کو مسکرا کر انجوائے کر رہا تھا

                میں نے لن کے نشانے کو خطا نہیں ہونے دیا کچھ دیر بعد زینت ہار چکی

                تھی اور سوائے تیز سانس لینے کے کچھ نہیں کر رہی تھی میں نے بوبز

                چوسنے کے ساتھ اپنے ہپس کو آہستہ آہستہ بل دینے شروع کر دئیے زینت

                کے دھڑکنیں بھی تیز ہو گئی اور اس نے مجھے ہپس سے پکڑ کر اپنی

                طرف کھینچنا شروع کر دیا اور پھر درمیان سے کمر کر ااٹھا کر ہپس کو بل

                دے کر اےےے اےےے اےےے کی ہلکی آواز کے ساتھ پھدی کو پانی

                سے بھر دیا اس نے بےاختیار میرے سر کو پکڑ کر مجھے ماتھے پر

                کسنگ شروع کر دی بولی صاحب ب ب ب میں نے اس کا چہره پکڑا اور

                آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا صاحب نہیں یارررررر اب وه پہلی بار

                آواز سے ہنس پڑی تھی میں نے اب جھٹکے شروع کر کے ان میں تیزی

                لانے لگا میں لن کو صرف دو انچ باہر نکال کے جھٹکے دے رہا تھا بہت

                دیر بعد میں نے اٹھ کر لن کو نکالا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اوپر اٹھا

                لیا تھا کہ اس کے ہپس بھی گڈے سے اوپر اٹھے ہوئے تھے اور پھدی کا

                منہ قدرے کھلا ہوا تھا میں نے اسی اسٹائل میں لن کو آخری کنارے تک ڈال

                دیا پھر نکالا پھر ڈالا اب زینت مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی شاید

                سٹائلش انداز میں اسے چدائی نہیں مل تھی میں جب پورا ڈال کے باہر

                نکالتا تو ہلکی سے پچ کی آواز ہو،اور اس کے بعد زینت کی وشششش

                نکلتی میں نےاس موم کی گڑیا کےگھٹنے اس کے کندھوں سے ملا دئیے

                اوپر کو منہ کھولے زینت کی پھدی کو میں نے لن سے لبا لب بھر دیا تھا

                اور جھٹکے تیز کر دئیے اب میرے اور زینت کے جسم ٹکرانے سے

                تالی بجنے لگی اور میرا مزه بڑھنے لگا مجھے حیرت سے تکتا زینت کا

                معصوم چہره مجھے بہت بھلا لگ رہا تھا تھا اس وقت میرے دل میں زینت

                کا پیار بڑھ گیا تھا اور میں نے دل سے عہد کیا کہ زینت کی زندگی کی

                محرومیوں کومٹانے کی کوشش کرونگا (جاری ہے )


                Comment


                • #38
                  بہت زبردست بلو جاب بھی کروا سے سے

                  Comment


                  • #39
                    Buht khubsurat tariqy sy likhi jaa rhi h kahani behtaren ♥
                    ♥♥♥

                    Comment


                    • #40
                      Zabardast, Kahani ka jawab nahi, bohat achi ja rahi hai

                      Comment

                      Users currently viewing this topic; (1 members and 2 guests)
                      Users currently viewing this topic
                      1
                      Members

                      Farooq7517423

                      Those who read this thread

                      Collapse

                      Members who have read this thread: 434

                      Working...
                      X