Welcome!

اردو اسٹوری فورم پہ خوش آمدید فورم پر بہترین اردو سیکس کہانیاں پڑھنے کے لیے ابھی رجسٹر ہوجائیں

Register Now

Announcement

Collapse

اناؤنسمنٹ

وی آئی پی ممبرشپ کی معلومات کے لیے اس ای میل پہ رابطہ کریں
[email protected]
See more
See less

تیرہ سال بعد

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • SexStory تیرہ سال بعد


    قسط نمبر 1
    تحریر زاہد ملک
    یہ بھی میری سابقہ کہانیوں کی طرح سچی کہانی ہے جو میرے سیک فین نے میرے ساتھ شئیر کی ایک اس کے سچے ہونے کے تمام ثبوت بھی مجھے سنڈ کئے کہانی میں محترم کی فرمائش پر صرف انکے نام تبدیل کئے گئے ہیں ۔میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسی کہانی آپ تک پہنچاؤں جس میں اس معاشرے کی کوتاہیوں کو بھی اجاگر کیا جا سکے کہانی کی اس فیملی کی خواہش ہے کہ میں اپنی فیملی یعنی سائقہ اور شاکرہ کے ساتھ ان کی دعوت پر ان کے ساتھ کچھ وقت گزاروں ۔۔ بہت شکریہ آپ کی کہانی کو نئے سال کے تحفے کے طور پر دوستوں کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں اور کوشش ہو گی کہ جلد آپ کے محبت اور خلوص بھری دعوت پر آپ کے ہاں آ سکوں ۔۔۔۔۔۔


    میرا نام نوید ہے میرے والد کا اسی شہر سرگودھا میں بہت اچھا کاروبار تھا اور اسی کی محنت کی وجہ سے ہی میں آج بھی خوشحال زندگی گزار رہا ہوں کیونکہ میں باپ کی محنت سے بنائی گئی جائیداد پر عیاشی کرنے نہیں نکلا اور حالات نے مجھے بہت محدود کر دیا تھا آج میری عمر 41 برس ہے میری والدہ میری شادی سے پہلے ہی وفات پا گئی جس کے بعد میرے والد نے میری شادی کے لئے عجلت سے کام لینا شروع کر دیا میں خاموش طبیعت کا مالک ہوں شروع سے ہی زیادہ گہماگہمی کی طرف راغب نہیں ہوا میری منگنی بچپن سے طے کر لی گئی تھی مجھے شبانہ اچھی نہیں لگتی تھی لیکن میں اپنے والدین کو انکار نہیں کر سکتا تھا میری والدہ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد جب میرے والد میری خالہ کے گھر شادی کی تاریخ مانگنے گئے تو انہوں نے پہلی فرصت میں ہی رشتہ دینے سے انکار کر دیا میرے والد صاحب بہت رنجیدہ ہوئے لیکن مجھے خوشی ہوئی اور ایسے محسوس ہوا جیسے میرے کندھوں پر سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو اس وقت میری عمر 23 برس تھی مجھے خاندان کی جو لڑکی اچھی لگتی تھی اور سچ پوچھیں تو اس سے خاموش محبت کرتا تھا اپنے ایک کزن کے ذریعے میں نے اپنی پسند سے اپنے والد کو آگاہ کر دیا تھا رشتے کی بات چل پڑی اور انہوں نے ہاں بھی کر دی پر شادی کےلئے دو سال کا وقت مانگا بہرحال میرے والد صاحب نے انہیں ایک سال کا وقت دیکر راضی کر لیا پھر جہاں بھی وہی ہوا جب میرے والد صاحب نے ان سے شادی کی تاریخ طے کرنا چاہی انہوں نے بھی رشتہ دینے سے انکار کر دیا اس بار والد سے میں زیادہ پریشان تھا بہرحال میں نے خود کو سنبھال لیا میرے والد صاحب نے اپنے ایک دوست کی بیٹی سے میرا رشتہ طے کر لیا اور مجھے اس وقت بتایا جب شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی میں ویسے بھی اتنا سادہ تھا کہ میٹرک کے بعد تک مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ لڑکی اور لڑکا سیکس کیسے کرتے کبھی کسی لڑکی سے اکیلے میں سامنا ہوتا تو میں گھبرا جاتا تھا 25 سال کی عمر میں میری نگہت سے شادی ہو گئی اور سہاگ رات میں نے اپنی زندگی کا پہلا سیکس کیا تھا نگہت بہت خوبصورت اور بہت اچھی تھی میرے خاندان اور محلے والے میری قسمت پر رشک کرنے لگے شادی کے دو ماہ بعد ہی رات کے وقت نگہت کے سینے میں درد ہوا ہم اسے فوری طور پر ہسپتال لے کر گئے لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اسے کیا ہوا تھا نہ تو ڈاکٹر سمجھ پائے نہ میں آج تک اس کی مرض یو سمجھ پایا وہ گزشتہ دو راتوں سے خواب میں ڈر رہی تھی تیسری رات اسے درد اٹھا اور میڈیکل رپورٹس آنے سے پہلے ہی وہ زندگی کی بازی ہار گئی اس کے دو ماہ بعد ہی میرے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ بھی مجھے تنہا چھوڑ گئے میں اپنے چچا کے پاس رہنے لگا میں ایک لمبے عرصے تک خود کو سنبھالتا رہا میرے چچا اور اس کے گھر والے میری شادی کےلئے فکر مند رہے اور انہوں نے کافی بھاگ دوڑ کی لیکن میں ہر جگہ بدبخت مشہور ہو چکا تھا اور کوئی بھی مجھے اپنی بیٹی بیاہ کر دینے کو تیار نہیں تھا میں پہلے سے بھی زیادہ خاموش اور سنجیدہ ھو گیا تھا میرے چچا کا کراچی میں اپنا کاروبار تھا اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کراچی شفٹ ہو گئے مجھے بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن میں نے انکار کر دیا چچا لوگوں کے جانے کے بعد میں نے اپنا یہ بڑا مکان ایک میڈیسن کمپنی کو کرائے پر دے دیا اس کے علاوہ دو دکانیں اور دیگر پانچ مکان بھی کرایہ پر لگے ہوئے تھے اور اور ان سے آنے والا ماہانہ کرایہ اتنا تھا کہ میں اس پر خوب عیاشی کر سکتا تھا لیکن میرا دل مر چکا تھا اور میں گمنام سے زندگی گزار رہا تھا والد صاحب اس بڑے مکان کو کرایہ پر لگانے کے بعد میں اس شہر کی ایک آخری کالونی میں شگٹ ہو گیا جو اس سے پہلے کرایہ پر۔لگا تھا دو کمروں پر مشتمل اس مکان میں میں اکیلا آدمی آسانی سے زندگی بسر کر سکتا تھا میں اکثر اپنا کھانا خود بنا لیتا تھا روٹیاں تندور سے خرید لیتا اور کبھی کبھی بس ہوٹل پر جا کر ہی کھانا کھا لیتا تھا یوں میں نے اسی مکان میں گیارہ سال تنہائی میں گزار گیا اور میں تنہائی کا عادی ہو گیا تھا کبھی کبھی مجھے نگہت بہت یاد آتی تھی کسی خاتون کو دیکھ کر سیکس کی بھی طلب جاگ جاتی لیکن میں فوری طور پر اپنے برے نصیبوں کو یاد کرتا گھر میں بند ہو جاتا تھا مجھے تقریباً دو ماہ بعد شدید بخار ہوتا جو اگلے تین چار دن تک مجھے بستر پر دبائے رکھتا یہ میری صحت کی روٹین بن گئی تھی اور جس دن میرے جسم میں درد اٹھنا شروع ہوتے میں سمجھ جاتا اور میڈیسن لانے کے ساتھ ضروریات کا کچھ دیگر سامان لاکر میں گھر میں بںد ہو جاتا تھا یہ انہی دنوں کی بات ہے میں پانچ روز تک بخار کا رگڑا لینے کے بعد آج کچھ ہشاش بشاش تھا میرا دل چاہا رہا تھا کہ آج بمبئی بریانی بنائی جائے سو میں دن تین بجے اسی محلے کی ایک شاپ پر چلا گیا میں نے ایک مرغی فروش سے چکن خریدی اور باقی اس سپر سٹور سے چاول مصالحے اور دیگر سامان لینے بعد اس شاپ سے نکلنے ہی والا تھا کہ ایک 18 انیس برس کی لڑکی سکن کلر کی چادر لپیٹے اس شاپ میں داخل ہوتے ہو غمزدہ لہجے میں شاپ والے سے بولی بھائی چاول اور سودا دے دیں گے شاہد پیسے دے جائے گا ۔۔ شاپ والے نے نہایت چبھتے لہجے میں جواب دیا وہ فیسبک ہیرو ۔بگڑا بچہ وہ پیسے نہیں دیتا تیرہ ہزار پہلے بقایا ہیں اور سودا نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔ میں اس دوران شاپ سے تقریباً نکل چکا تھا ۔۔۔ مجھے اس لڑکی کی نرم لہجے کے بعد شاپ والے کا جواب سن کر بہت افسوس ہوا ۔۔۔ میں رک چکا تھا ۔۔ لڑکی آہستہ سے قدم اٹھاتی واپس جانے لگی تھی وہ میرے پاس سے گزر کر سر جھکائے گلی میں آہستہ سے چلتی اگلے کوچے میں داخل ہوئے لگی میرا گھر بھی اسی کوچے کے آخر میں تھا میں نے تیز قدم اٹھاتے ہوئے اس کوچے میں لڑکی کے پاس جا پہنچا یہ تقریباً پانچ فٹ قد نارمل جسم کی مالک بہت حسین آنکھوں اور گوری رنگت والی کسی گڑیا سے کم نہیں تھی میں نے آہستہ سے آواز دی ۔۔ جی سنیے ۔۔۔۔۔ لڑکی نے اپنے قدم روکے اور ایک دم میری طرف مڑ کے دیکھا میں نے چکن اور دیگر سودا سلف والا شاپر لڑکی کی طرف بڑھایا اور ٹھٹک گئی میں نے شاپر اس کے ہاتھ میں زبردستی تھمائے اور آگے بڑھ گیا میں نے چلتے ہوئے فیصلہ کر لیا کہ کچھ دیر میں گھر سے واپس نکل کر دوبارہ سے سامان خرید لوں گا ۔۔ میں جس وقت گیٹ کا تالہ کھول کر اپنے گھر میں داخل ہو رہا تھا تو کوچے میں کو چھ مکان پیچھے وہ لڑکی اپنے گیٹ پر کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی میں نے اسے نظر انداز کیا اور گھر میں آ کر کچھ دیر ٹی وی کے آگے بیٹھ گیا اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد دوبارہ بریانی کا سامان لیکر گھر آ گیا یہ سردیوں کے دن تھے اور اس روز شام سے ہی جیسے دھند چھا گئی ہو میں نے بریانی کو دم پر رکھا اور کچن سے کمرے کی طرف آنکھوں لگا تو مین گیٹ پر ہلکی سی دستک ہوئی یہ کون ہو سکتا ہے ؟؟۔ اس محلے کے ایک بزرگ دن کے کسی وقت میرے پاس آ جاتے تھے اور اب وہ بھی سردی کی وجہ سے اپنے گھر تک محدود ہو گئے تھے میں گیٹ کی طرف بڑھ گیا میں نے گیٹ کی کھڑکی کھولی تو وہی لڑکی بریانی کی پلیٹ لئے میرے گھر میں داخل ہو گئی ۔۔ چھٹ سے بولی بہت شکریہ انکل ۔۔۔ آج میں صبح سے بھوکی تھی ۔۔۔۔ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی خود پھر سے بول پڑی ۔۔ انکل آپ کے گھر کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔ ۔۔میں نے گہری سانس لی اور بولا نہیں میں اکیلا رہتا ہوں ۔۔ آپ کیوں بھوکی رہی دن کو آپ کے گھر اور کوئی نہیں ہوتا ۔۔؟؟ ۔۔ وہ کانپتی آواز میں بولی جی ساس نند دیور ہیں سب ۔لیکن میرا اور شاید کا کھانا پینا الگ ہے اور شاہد ببس۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آواز ایک دم سے بیٹھ گئی جیسے اس نے پلیٹ میری طرف بڑھائی میں نے پلیٹ اس کے ہاتھوں سے لی اور کچن کی طرف چلا گیا پلیٹ خالی کرکے میں واپس آیا تو یہ سر جھکائے ابھی تک اپنی انگلیوں کو انکھوں کے کناروں پر پھیر رہی تھی ۔۔۔۔ میں نے پلیٹ اس کی طرف بڑھائی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ آپ لو جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو کسی طور مجھے بتا دیا کرو ۔۔۔ پلیٹ میں رکھے وہ ہزار روپے کے نوٹ کو دیکھ کر حیرت سے مجھے تکنے لگی تھی ۔۔۔ میں نے گیٹ کی طرف دو قدم بڑھائے اور رک گیا وہ خاموشی سے گیٹ سے باہر چلی گئی تھی اور میں نے گیٹ بند کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا اور میں نے اس لڑکو گلی میں بھی نہیں دیکھا تھا ویسے بھی میں باہر کم نکلتا تھا میرے اس گھر میں آنے والی یہ۔پہلی لڑکی تھی میرے ذہن میں کبھی کبھی یہ خیال گھومنے لگتا کہ اس کا نام کیا ہے ؟؟ شاہد کیا کام کرتا ہے اور گھر والے اس کے ساتھ یہ ناروا سلوک کیوں کرتے لیکن میرے ذہن میں ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ میں اس سے سیکس کروں گا میری عمر اس وقت تقریباً 39 سال تھی اور یہ لڑکی نہ صرف میری عمر بلکہ میرے جسم سے بھی آدھی تھی ۔۔۔ یہ اتوار کا روز تھا شام کے کافی دیر بعد دروازے پر ہلکی دستک ہوئی اور اب میں اس دستک کو پہچان چکا تھا میں جلدی سے گیٹ کی طرف بڑھ گیا اور گیٹ کی کھڑکی کھول دی وہ لڑکی فوراً اندر آ گئی تھی اس کے ہاتھ میں برتن تھا اور وہ بوکھلائی ہوئی تھی میں نے پوچھا ۔۔ اتنی پریشان کیوں ہیں خیریت ؟؟؟ بولی انکل کھانے کو۔کچھ پکایا آپ نے ۔؟؟ میں نے اس کے ہات سے برتن لیا اور کچن کی طرف چلا گیا میں نے اس میں سالن ڈالا اور اس کو دیتے ہوئے بولا میں روٹیاں تندور سے لیتا ہوں اور ابھی روٹی لینے نہیں گیا دس منٹ بعد آؤ تو روٹیاں بھی میں لے آتا ہوں ۔۔۔ بولی نہیں شکریہ روٹی میں نے پکا لی ہے ۔۔ میں نے فوراً سوال داغا شاہد کوئی کام نہیں کرتا ۔۔۔ وہ سر جھکا کر بولی ۔۔۔ فیکٹری میں کام کرتا ہے لیکن کہاں خرچ کرتا یہ کسی کو معلوم نہیں ۔۔۔ اس کی امی اپ کو۔کھانا تک نہیں دیتی ۔؟؟ میں نے دوسرا سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ بولی نہیں وہ بھی شاید کی وجہ سے تنگ آ گئے ہیں ۔۔۔۔۔ میں خاموش ہو گیا ۔۔۔ بولی انکل آپ کے بیوی بچے کہاں ہیں ؟؟؟ میں نے کہا بیوی شادی کے دو ماہ بعد ہی مر گئی تھی ۔۔۔۔۔ بولی۔دوسری شادی نہیں کی ؟؟؟ میں نے کہا نہیں ۔۔ میں دو سال انکل کی فیملی کے ساتھ رہا اور اب گیارہ سال سے تنہا رہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ میں نے پوچھا آپکے امی ابو ہیلپ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں بولی نہیں ہیں بس ایک بہن ہے اس کا گھر میانوالی میں ہے ۔۔۔۔ وہ واپس ہونے لگی تھی میں نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور مٹھی میں پہلے سے بند ہزار کا نوٹ اسے تھما دیا اس بار وہ بغیر ہچکچاہٹ کے لے کر چلی گئی شاید اسے پیسوں کی ضرورت تھی ۔۔۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور اب وہ روزانہ دو بار میرے لئے روٹیاں بنا کر لاتی اور میں نے سالن پکا کر اس کا ڈبہ بند کئے رکھا ہوتا وہ اکثر تنگ پاجامہ پہنے ہوتی تھی ایک روز وہ میرے کچن میں کچھ اٹھانے کے لئے جھکی تو پہلی بار میرے دل پر جیسے کسی نے مکا مارا ہو ہر مرد کی طرح مجھے بھی سیکس کی طلب ہوتی تھی لیکن میں اپنی اس خواہش کو بہت پہلے کا شاید مار چکا تھا اس رات بار بار مجھے کرن کہ پاجامے میں جکڑے ہپس میری آنکھیں میں تیرتے رہے ۔۔۔ میری مسلسل نوازشات پر وہ کئی بار بول گئی تھی کہ انکل آپ کو لگے کہ میں کسی طور آپ کے احسان اتار سکتی ہوں تو میں کبھی انکار نہیں کروں گی وہ اکثر شاہد کے اس سے روپے خرچ نہ دینا سودا سلف نہ لانے کے ساتھ بول جاتی بس کسی طور بھی مرد نہیں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔ آج اس کے۔یہ اشارے بھی مجھے کچھ پتا دے رہے تھے لیکن کیا کرن کے ساتھ ایسا کرنا ٹھیک ہو گا؟؟؟ کیا اس کا نازک جسم میرے بھاری جسم کا بوجھ اٹھا پائے گا کیا اتنی چھوٹی لڑکی سے میرا سیکس کرنا ٹھیک ہو گا ؟؟۔ انہی خیالات میں آج بہت عرصے بعد میرے ببلو میں سختی آ چکی تھی میں کئی بار کمرے سے نکل کر گیٹ کی طرف آیا کہ شاید کرن آ جائے لیکن رات کے اس پہر اس کا آنا ممکن نہیں تھا میں شدت جذبات میں یہ ارادہ کر چکا تھا کہ کسی طرح کل میں ٹرائی کرتا ہوں اگلی صبح روٹین سے قبل میری آنکھ کھل چکی تھی ۔۔۔۔ (جاری ہے )



  • #2
    بہت اچھا سٹارٹ ہے۔ایسے ہی جاری رکھیے گا ۔

    Comment


    • #3
      خواہشوں کی دھوپ میں احسانوں کی لو کچھ ایسا ہی ستم گر زمانہ میسر ہے

      Comment


      • #4
        Bht hi achi story hai master mind sahib jitni Baar parho Maza ata hai

        Comment


        • #5
          Acha start hy keep it up

          Comment


          • #6
            بھائی جان بہت اچھی سٹوری شروع کی ہے پڑھ کے مزا آیا۔
            اب دیکھتے ہیں کہ آگے آگے کیا ہوتا ہے۔
            شکریہ

            Comment


            • #7
              Start to bht ala hai... update hot ho gi

              Comment


              • #8
                اک بہترین کہانی

                Comment


                • #9
                  بہترین اور منفرد شروعات ہے
                  آگے چل کے یہ کہانی سب کی نمبر ون کہانی ہو گی
                  بس آپ مرچ مصالحہ ڈالتے رہو
                  آنے والے وقت یہ شاندار شہکار بنے والی ہے آپ سے التماس ہے اس کو ادھورا نہیں چھوڑیں
                  شکریہ

                  Comment


                  • #10
                    start buhat wadiya lia hai janab.
                    next update la shidat se intzar hai

                    Comment

                    Users currently viewing this topic; (0 members and 2 guests)
                    Users currently viewing this topic
                    0
                    Members

                    Working...
                    X